12 اکتوبر، 2026، 6:26 PM

آبنائے ہرمز کا انتظام، ایرانی مسلح افواج کی اسٹریٹجک ذمہ داری ہے، جنرل صفوی

آبنائے ہرمز کا انتظام، ایرانی مسلح افواج کی اسٹریٹجک ذمہ داری ہے، جنرل صفوی

سپریم کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے گزشتہ برسوں میں آبنائے ہرمز سے دشمن کے فوجی سازوسامان کی آمدورفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ میں آمدورفت کا انتظام اور اس پر پابندیاں عائد کرنا، مسلح افواج کی اسٹریٹجک ذمہ داری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب کے مشیر میجر جنرل سید یحییٰ صفوی نے ’’آبنائے ہرمز کی دفاعی حکمت عملی پر اثرانداز ہونے والے جغرافیائی تقاضوں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ علمی و تخصصی نشست میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ہمارے علاقائی پانیوں کا ناقابلِ جدا حصہ ہے۔ اس علاقے پر ہماری حاکمیت اور انتظام کوئی سیاسی دعویٰ نہیں، بلکہ ایک مسلمہ قانونی اور جغرافیائی حق ہے۔

میجر جنرل صفوی نے مزید کہا کہ ایران کشیدگی پیدا کرنے کے درپے نہیں، لیکن اپنی حاکمیت کے حق کے نفاذ میں بھی پوری قوت رکھتا ہے۔ جب اس آبی گزرگاہ کو ایسے فوجی سازوسامان کی آمدورفت کا راستہ بنا دیا جائے جو براہِ راست ایران کی قومی سلامتی کو نشانہ بناتا ہو تو آمدورفت کا انتظام اور اس پر پابندیاں عائد کرنا نہ صرف ہمارا حق ہے، بلکہ ہماری مسلح افواج کی اسٹریٹجک ذمہ داری بھی ہے۔

آبنائے ہرمز؛ عالمی شریان ہے جس کا کوئی متبادل نہیں

انہوں نے پائپ لائنوں یا متبادل راستوں کی تعمیر کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی اہمیت میں کمی کے مفروضے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی کے نظام میں آبنائے ہرمز ایک اسٹریٹجک گزرگاہ ہے اور متوازی راستے بنانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود دنیا کا اس گزرگاہ پر انحصار ایک ساختی نوعیت کا انحصار ہے۔

سپریم کمانڈر کے اعلیٰ مشیر نے مزید کہا کہ آج کی اتار چڑھاؤ والی عالمی منڈی میں اس آب راہ کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے، کیونکہ دنیا میں تیل اور توانائی کی 20 فیصد سے زیادہ ترسیل اب بھی اسی اہم گزرگاہ سے ہوتی ہے۔

میجر جنرل صفوی نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور آبنائے ہرمز کا انتظام کرنے کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ہماری بنیادی حکمت عملی امریکہ کی جانب سے ہمارے ملک اور عزیز عوام کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی کے مقابلے میں آبنائے ہرمز کا دانش مندانہ انتظام کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس آبی گذرگاہ کا انتظام، اس اہم گزرگاہ کو بحری پابندیوں کے خاتمے کے لیے استعمال کرنے اور خطے کے ممالک کی شرکت سے علاقائی پائیدار امن و سلامتی کے حصول کا راستہ بنانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آبنائے ہرمز ایران کے علاقائی پانیوں کا ناقابلِ جدا حصہ ہے، کہا کہ ہماری بنیادی حکمت عملی امریکہ کی جانب سے ہمارے ملک اور عزیز عوام کے خلاف بحری ناکہ بندی کے مقابلے میں آبنائے ہرمز کا دانش مندانہ انتظام کرنا ہے۔

News ID 1942060

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha